ابنا: غزہ پٹی میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی غیر منصفانہ رپورٹ پر وسیع مظاہرہ کیا گيا۔ فلسطینی مظاہرین نے غزہ شہر کے وسط میں اجتماع کیا اور اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ صہیونی ریاست کی کھلی حمایت کی علامت ہے۔مظاہرین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ در حقیقت چار سال سے جاری غزہ کے محاصرے پر مبنی صہیونی ریاست کے اقدام کو جواز پیش کرتی ہے۔جیفری پالمر کی سربراہی والی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے کاروان آزادی غزہ ایک میں شامل ایک جہاز پر گزشتہ سال ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے بارے میں غزہ پٹی کے محاصرے کے صہیونی ریاست کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے محاصرہ شدہ غزہ کے علاقے کی طرف اس جہاز کی حرکت کو غیر قانونی قراردیا ہے۔واضح رہے کہ اکتیس مئی سنہ دو ہزار دس کو صہیونی ریاست کے کمانڈوز نے بین الاقوامی سمندر میں غزہ کے لوگوں کے لئے جانے والے امدادی کارواں پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ترکی کے نو باشندے مارے گئے تھے۔ دریں اثنا حماس کے ایک اعلی عہدیدار اسماعیل رضوان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ظالمانہ اور اسرائیل کی کھلی حمایت ہے۔تنظیم آزادی فلسطین ، پی ایل او ، کی مجلس عاملہ کے رکن حنان عشراوی نے بھی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے ملت فلسطین کی فوری حمایت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔حنان عشراوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بدلتے موقف ، کہ جس نے تازہ رپورٹ سے پہلے غزہ کے محاصرے کو غیر قانونی اور غیرانسانی قراردیا تھا ، اس کی بدنامی کا سبب ہیں۔ادھر عرب لیگ نے بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ پر شدید تنقید کی ہے۔فلسطینی امور میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری کے معاون محمد صبیح نے بھی کاروان آزادی غزہ ایک پر اسرائیلی حملے کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ جانب دارانہ ہے اور اقوام متحدہ کی ساکھ خراب ہونے کا باعث ہے۔علاوہ ازیں یہ رپورٹ حملے اور جنگ پسندی کے لئے اسرائيل کی تشویق بھی کرتی ہے۔محمد صبیح نے صہیونی ریاست کے ذریعہ کئے گئے غزہ پٹی کے محاصرے کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پیش کی گئي وضاحت پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ چار سالوں کے دوران نہ صرف یہ کہ غزہ پٹی کے محاصرے کو ختم کرانے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ تسلط پسند طاقتوں کے زیر اثر مخاصمانہ رپورٹیں پیش کرکے صہیونی ریاست کے جرائم کی حمایت اور ان کی توجیہ کا کام کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ بھی صہیونی ریاست کو اس کے جرائم جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے جس پر رائے عامہ نے وسیع احتجاج کیا ہے۔....... /169
4 ستمبر 2011 - 19:30
News ID: 263851
غاصب صہیونی ریاست کے مظالم کی حمایت پر مبنی اقوام متحدہ کی جانبدارانہ رپورٹ پر احتجاج اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔